قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے نجکاری کی مخالفت کردی،مشیر ہوائی بازی اور نیپرا اگلے اجلاس میں طلب

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے قومی ائیر لائن پی آئی اے نجکاری کی مخالفت کردی ،پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ اگلی حکومت کرے جبکہ نیپرااور مشیر ہوائی بازی کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا ،پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے مشیر ہوابازی اور وزیر نجکاری کمیشن کے بیان میں تضاد ہے ، چیئرمین کمیٹی نے یوبی ایل بنک اور ایچ بی ایل بنک کے بارے میں بریفنگ غیر تسلی بخش قرار دے کر دوبارہ جواب دینے کی ہدایت کردی ،وزارت نجکاری کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فیصل آباد ، گوجرانوالہ ،الیکٹرک سپلائی کمپنی اور جام شورو پاور پلانٹ کی بھی نجکاری کی جائے گی ، ریلوے نجکاری لسٹ میں موجود ہے مگر فاسٹ ٹریک میں ایس ایم ای بنک ،ماڑی پیٹرولیم ، پاکستان سٹیل مل اور پی آئی اے شامل ہے ۔

منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری اور اعدادوشمار کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا کمیٹی میں سینیٹر نسرین جلیل ،سینیٹر سلیم مانڈوی ولا ، سینیٹر نہال ہاشمی و دیگر نے شرکت کی ۔ کمیٹی میں پی آئی اے کی نجکاری پر وفاقی وزیر دانیال عزیز اور پی پی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا میں بار بار تکرار ہوتی رہی ۔دانیال عزیز نے کمیٹی کو بتایا کہ قانون کے مطابق ہم پابند ہیں کہ 15اپریل 2018سے پہلے پی آئی اے کی نجکاری کردیں اور اس کیلئے وزارت نجکاری کا م کررہی ہے اور اس کیلئے پی آئی اے کے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ لگایا جارہا ہے ۔ پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے پر چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے پرائیوٹائزیشن سینیٹر محسن عزیز نے سفارش کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کا یہ صحیح وقت نہیں ہے اثاثوں کے بارے میں تخمینہ لگائیں اور نجکاری کا فیصلہ نئے حکومت کو کرنے دیں۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت کے چار مہینے رہ گئے ہیں اور اب حکومت پی آئی اے کی نجکاری کرنے جارہی ہے اس وقت اداروں کی نجکاری کی کوئی جماعت حمایت نہیں کرے گی ۔ سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ یہ حکومت کی ناکامی ہے کہ چار سال کے بعد اب جب چار مہینے رہ گئے ہیں حکومت اداروں کی نجکاری کی طرف جارہی ہے ۔ وزارت چار مہینے پہلے بنی ہے مگر مسلم لیگ ن کی حکومت کو چار سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے ۔ دانیال عزیز نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے اور دیگر اداروں کی نجکاری ناگزیر ہوچکی ہے ۔ ایس ایم ای بنک ، ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹیڈ ، پاکستان سٹیل ملز اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری فاسٹ ٹریک پر ہے جبکہ ریلوے کی نجکاری کے لسٹ پر ہے ۔ مگر اس کوفاسٹ ٹریک سے نکال دیا ہے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی او رجام شوروپاور پلانٹ کی بھی نجکاری کی جائے گی ۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ریلوے بھی پی آئی اے کی طرح خسارے میں ہے تو اس کی نجکاری کیوں نہیں کی جاری جو صرف سارا زور پی آئی اے پر ہے جس پر دانیال عزیز نے کہا کہ پی آئی اے یونین کے الیکشن ہونے والے ہیں اس لیے آپ اس طرح کی باتیں کررہے ہیں ۔
سٹیل مل کی نجکاری پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈی والانے کہا کہ سٹیل مل پر حکومت سندھ اور وفاق میں ایک ملاقات نہیں ہوئی ہے اور ایک دوسرے کو خط ہی لکھتے رہے ہیں دونوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے سٹیل مل کی نجکاری پر سندھ حکومت کو اعتمادمیں لینا ضروری ہے اس کے بغیر نجکاری ممکن نہیں ہے اور ان کے اعتماد کے بغیر یہ سارا کام رک جائے گا۔ وزارت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سٹیل مل کی نجکاری کیلئے کام کررہے ہیں ۔ سٹیل مل کے 11500ملازمین ہیں جن کو ہر ماہ 38کروڑ روپے وفاقی حکومت تنخوائوں کے مد میں دیتی ہے جبکہ سٹیل مل پر 188بلین روپے واجبات ہیں،جن میں سے سوئی سدرن گیس کے 43بلین نیشنل بنک کے 53بلین حکومت پاکستان کے 42بلین اور ملازمین کے 47بلین روپے ہیں، سٹیل مل کو 30سال کی لیز اور شیئرنگ منافع کے تحت نجکاری کی جائے گی، معائدے میں ملازمین کیلئے رضاکارانہ ریٹائٹرمنٹ سکیم بھی ہوگی، 2008میں غیر قانونی طور پر ملازمین کا فنڈ استعمال کیا ،غیرقانونی فنڈاستعمال کرنے پرکیس کو نیب کے پاس بھیج دیا ہے جبکہ 2018جون کو تین ہزار ملازمین ریٹائرڈ ہوجائیں گے جن کو 15ارب روپے ادا کرنے ہوں گے ۔

وفاقی وزیر دانیال عزیز نے بتایا کہ سٹیل مل کے ملازمین اور کائونٹ کا آڈٹ شروع کردیا ہے ۔ سوئی سدرن گیس کا کہنا ہے کہ اس کے 43بلین روپے میں جبکہ سٹیل مل کے مطابق ان کے 31بلین روپے میں جن میں 20ارب اصل جبکہ 11ارب لیٹ چارجز کی مد میں ہیں ہماری کوشش ہے کہ اس مسلہ کوجلد کلیئر کردیں تاکہ اس کی شفاف نجکاری ہوجائے اگر سٹیل مل چلے گی تو درآمدات کم ہوں گی کیوں کہ سی پیک کے تحت سٹیل کا کام بہت زیادہ ہے او رسٹیل کے استعمال میں مزید اضافہ ہوگا۔ چیئرمین کمیٹی نے یوبی ایل بنک اور ایچ بی ایل بنک کے بارے میں بریفنگ غیر تسلی بخش قرار دے کر دوبارہ جواب دینے کی ہدایت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں